یورپی یونین کے رکن ملک آئرلینڈ میں اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے اسپیکر کی آمد کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ آئرش پارلیمنٹ کے باہرجمع اسرائیلی اسپیکر روبین ریویلین کی آمد کےموقع پر قاتل کے نعرے بلند کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ آئرلینڈ میں سنہ 1985ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی اسرائیلی سرکاری شخصیت نے دورہ کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق اسرئیلی اسپیکر کا آئرلینڈآ مد پر نہایت غصے اور منفی انداز میں استقبال کیا گیا۔ جب صہیونی اسپیکر دبلن میںآئرش پارلیمنٹ کے سامنے پہنچے تو ان کے استقبال کے لیے آئرش حکومت کے چند ایک اہلکار ایک جانب کھڑے تھے جبکہ دوسری جانب ایک جم غفیر ان کےخلاف شدید نعرے بازی کر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دبلن میں اسرائیلی اسپیکر کے خلاف احتجاج منظم کرنے والوں میں بڑی تعداد مقامی شہریوں کی تھی تاہم آئرلینڈ میں مقیم فلسطینیی اور عرب شہری بھی احتجاجی مظاہرے میں نظر آرہے تھے۔
بعد ازاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےصہیونی اسپیکر نے عوامی غم وغصے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آئرش پارلیمنٹ کے دورے کے دوران جس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا اسے سخت مایوسی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ آئرلینڈ اور اسرائیل کے درمیان طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ آئرلینڈ کےموجودہ صدر ماضی میں "فلسطین آئرش فرینڈشپ آرگنائزیشن” کے صدر رہ چکے ہیں۔انہوں نے سنہ 2007ء میں غزہ کی پٹی میں برسراقتدار آنے والی اسرائیل مخالف جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر اسرائیلی حکومت اور انتہاپسند یہودی سخت سیخ پا تھے۔

