اسرائیلی آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد نے الخلیل میں تل رمیدہ کے علاقے میں فلسطینی خاندان کی ملکیتی زمین میں دراندازی کا ارتکاب کیا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ آبادکاروں کے گروپ قابض فوج کی حفاظت میں تل رمیدہ میں موجود اگریپے خاندان کی زمین میں داخل ہو گیا اور اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ آبادکار اس جگہ پر آبادکاروں کے لئے ایک مرکز بنانا چاۃتے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج کی بڑی تعداد کی علاقے میں موجودگی کی وجہ سے کشیدگی کی فضا قائم ہے۔
اسی تناظر میں سینکڑوں اسرائیلی طلبہ نے الخلیل کے قدیمی قصبے اور ابراہیمی مسجد کے علاقے میں حملہ کر دیا۔ انسانی حقوق کے کارکن عیسیٰ عمرو نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ سیکڑوں شدت پسند آبادکار اور یہودی طلبہ اسرائیلی فوجیوں کے ہمراہ الخلیل کے مختلف علاقوں پر حملہ آور ہو گئے۔
گزشتہ کچھ دنوں کے دوران آبادکاروں کے گروپوں نے الخلیل شہر میں فلسطینی شہریوں کی ملکیتی پراپرٹی پر متعدد حملے کئے ہیں تاکہ ان کو وہاں سے نکال کر یہودی بستی کی توسیع کی جاسکے جو کہ شہر اور ابراہیمی مسجد کے اطراف میں واقع ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
