فلسطین میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی خواتین کے لیے لائی گئی کتب اور ان کی دیگراشیاء سے انہیں مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔
محروسات کے گھروں سے لائی گئی کتب اور دیگر سامان صہیونی جیل اہلکار اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور انہیں اسیرات کو نہیں دیتے۔
مرکزبرائے اسیران اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ریاض الاشقر نے بتایا کہ صہیونی جیل اہلکار فلسطینی اسیر خواتین کے لیے لائی گئی اشیاء انہیں فراہم کرنےسے روک دیتے ہیں، اور یہ عمل گذشتہ تین سال سے جاری ہے۔ ریاض نے بتایا کہ خواتین کے اہل خانہ نے کیڑے مار ادویات اور مطالعے کے لیے کتب اسیرات تک پہنچانے کی کوشش کی ہے تاہم اسرائیلی جیلوں کا عملہ کسی قسم کا سامان خواتین تک نہیں پہنچنے دیتا۔
انہوں نے کہا کہ اسیرات کے جیلوں میں کمرے کیڑوں اور موذی حشرالارض کا مسکن بن چکے ہیں، لیکن صہیونی جیل حکام کرم کش ادویات کی خواتین تک رسائی میں مسلسل رکاوٹ ہیں۔ انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا تھا کہ صہیونی جیلوں میں کئی خواتین قیدی سرطان جیسے موذی امراض کا شکار ہیں لیکن ان کے علاج معالجے میں بھی صہیونی حکام سخت سستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کئی اسیرات کے ڈاکٹروں نے سرجری کی سفارش کی ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبات کے باوجود اسرائیلی جیل انتظامیہ بیمار اسیرات کے معاملے میں مبینہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
