اسرائیل جیل انتظامیہ بئر سبع جیل میں تمام فلسطینی قیدیوں کی جانب سے اسیر ضرار ابو سیسی کی قید تنہائی ختم کرانے کے لئے بطور اظہار یکجہتی کی جانے والی بھوک ہڑتال کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہے. قیدیوں کی بے مثال یکجہتی کے ہاتھوں مجبور ہو کر صہیونی جیل انتظامیہ نے ضرار ابو سیسی کی قید تنہائی ختم کر دی ہے.
مرکز مطالعہ اسیران اور انسانی حقوق ‘احرار’ کے ڈائریکٹر فٶاد الخفش نے غزہ سے تعلق رکھنے والے اسیر ضرار ابو سیسی کی بئر سبع جیل میں قید تنہائی ختم کئے جانے کی تصدیق کر دی ہے. انہوں نے بتایا کہ تحریک اسیران نے دھمکی دی تھی کہ اگر ضرار ابو سیسی کی قید تنہائی ختم نہ کی گئی تو وہ جیل میں اپنے بھول ہڑتالی احتجاج کو مزید طول دے سکتے ہیں.
قید تنہائی کے عذاب سے نجات پانے پر فلسطینی اسیر ضرار سیسی نے ان سے یکجہتی کے اظہار کی خاطر بھوک ہڑتال کرنے والے جیل کے ساتھی قیدیوں کا شکریہ ادا کیا ہے. ابو سیسی جیل میں ناکافی طبی سہولیات اور قید تنہائی کے خلاف اس سال سولہ اگست سے بھوک ہڑتال پر تھے. انہیں دو برس تک قید تنہائی میں رکھا گیا، اس دوران ان پر جیل حکام کا بہیمانہ تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روزمرہ کا معمول تھیں.
ضرار ابو سیسی غزہ کی پٹی کے اکلوتے بجلی گھر کے ڈپٹی چیئرمین تھے. انہیں اٹھارہ فروری دو ہزار گیارہ کو بدنام زمانہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ نے یوکرائن سے اغوا کیا. ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کے خطرہ ہیں. اپنی گرفتاری سے ہی انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
