فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی اورعسکری تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے سیاسی شعبے کے رکن اور جماعت کے مرکزی شعبے کے رکن عزت رشق نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے پڑوسی ملک اردن کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حماس اردن کی قومی سلامتی کو فلسطینیوں کی قومی سلامتی کے مساوی سمجھتی ہے۔
اتوار کے روز حماس کی قیادت کے دمشق، قاہرہ اور دوحہ سے عمان آمد اور خالد مشعل کی اردنی بادشاہ شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ہوئی ملاقات کے بعد مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "شاہ عبداللہ کے ساتھ حماس کے لیڈر خالد مشعل کی ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ اس موقع پر قطر کے ولی عہد شہزادہ تمیم بنحمد آل ثانی بھی موجود تھے۔ خالد مشعل اور اردنی فرمانروا کے مابین ہونے والی بات چیت میں اردن کی قومی سلامتی اور حماس کی قیادت کی اردن میں آمد سمیت باہمی دلچسی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا”۔
عزت رشق کا کہنا تھا کہ خالد مشعل نے شاہ عبد اللہ دوم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان کے مسئلہ فلسطین کے بارے میں کردار کو سراہا اور امید ظاہرکی کہ عمان فلسطینیوں کے حقوق کی سیاسی، اخلاقی،سفارتی اور مادی و معنوی ہر قسم کی امداد جاری رکھے گا۔
حماس اور اردن کے درمیان نئے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عزت رشق نے کہا کہ یہ بات ان کی جماعت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ اردن کی قومی سلامتی فلسطین کی قومی سلامتی کے مساوی ہے۔
اتوار کے روز خالد مشعل نے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ بات چیت کے دوران بھی اپنی جماعت کی اس پالیسی کی دوبارہ وضاحت کی اور کہا کہ وہ اردن کی قومی سلامتی کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اوراردن کے درمیان بہت سے قومی اورعلاقائی معاملات پرموقف ایک ہے۔ اسرائیلاور بعض دوسری طاقتیں اردن کو فلسطینیوں کا متبادل وطن قرار دینے کے لیے کوشاں ہیں۔اردن کا بھی یہ دیرینہ موقف ہے کہ فلسطینیوں کا اپنا وطن صرف فلسطین ہی ہے۔ اردن اردنی عوام کا وطن ہے۔ کسی دوسرے ملک کی سازش سے فلسطینیوں کو جبری طور پر اردن میں آباد نہیں کیا جاسکتا ہے۔
خالد مشعل کی اگلی مصروفیات کے بارے میں عزت رشق نے کہا کہ حماس اردن میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔ خالد مشعل جماعت کی دیگرقیادت کے ہمراہ جلد ہی معروف فلسطینی مجاہد لیڈر بھجت ابوغریبہ کی وفات پران کی تعزیت کے لیے ان کے گھر جائیں گے۔
واضح رہے کہ اردن میں حماس کی قیادت کی واپسی سے قبل ان کے استقبال کے لیے شاہی دفتر کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ انہی تیاریوں میں حماس کی قیادت کے ساتھ شاہ عبداللہ کی ملاقات بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق قطری شہزادہ اور ولی عہد تمیم بن حمد بھی شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات کی ۔ حماس کی قیادت کے ہمراہ قطری ولی عہد کی اردن آمد بھی تاریخی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ شہزادہ تمیم بن حمد کی خالد مشعل کے ساتھ خصوصی طیارے کے ذریعے اردن آمد کو حماس اوراردن کے درمیان تاریخی تعلقات کے ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ حماس کی قیادت جن میں تنظیم کے سیاسی شعبے کے موجودہ سربراہ خالد مشعل بھی شامل ہیں کو اردن حکومت نے سنہ 1999ء میں جلا وطن کر دیا تھا،جس کے بعد حماس کی قیادت نے شام کےدارالحکومت دمشق کو اپنی بیرون ملک سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف شروع ہونے والی عوامی بغاوت کی تحریک کے بعد حماس نے ایک مرتبہ پھر اردن میں اپنا مرکز قائم کیا ہے۔

