قابض اسرائیلی فوج نے اردن سے واپسی پر سابق فلسطینی اسیر فارس التایہ کو مغربی کنارے کی الکرامہ گذرگاہ سے دوبارہ حراست میں لے لیا۔ تیس سالہ تایہ کو سنہ 2011ء میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔
فلسطینی مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی حکام کی جانب سے فارس التایہ کے اہل خانہ کو اس کی گرفتاری اور نامعلوم مقام پر منتقلی کے بارے میں بتا دیا گیا ہے۔
التایہ گذشتہ جمعہ کو اردن سے مقبوضہ فلسطینی شہر طوباس واپس لوٹ رہے کہ تھے کہ صہیونی بارڈر فورسز نے انہیں الکرامہ گذرگاہ سے حراست میں لے لیا تھا۔
اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام گرفتار کے بعد گذشتہ شام تک التایہ کے ساتھ رابطہ ہوتا رہا ہے۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اسے الکرامہ گذرگاہ پر ہی روکا گیا تھا جہاں اسے اہل خانہ سے رابطے کی اجازت تھی تاہم رات گئے سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
اسیر کے اہل خانہ کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے التایہ کی فوری گرفتاری کے بارے میں پہلے کچھ نہیں بتایا گیا۔ تاہم اس کی گرفتاری کے بعد طوباس میں اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا اور گھر کی تلاشی لی گئی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
