مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ملزمان کے وکلاء دفاع کی درخواست پر مقدمہ کی سماعت آئندہ سوموار تک ملتوی کردی گئی ہے۔ دفاعی پینل میں شامل وکلاء کا کہنا ہے کہ دستور میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کسی بھی شخص سے پوچھ تاچھ کی جاسکتی ہے مگر فلسطینی تحریک مزاحمت یا تحریک آزادی کی حمایت الگ معاملہ ہے۔ ہمارا دستور فلسطینی تحریک آزادی کو ’’دہشت گردی‘‘ نہیں قرا ردیتا۔ ہم آئندہ کی سماعتوں میں یہ ثابت کریں گے کہ فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت جرم نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اردنی پولیس نے کوئی پانچ ماہ قبل عمان میں ایک احتجاجی ریلی میں شریک متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان پر فلسطینی تحریک آزادی اور مزاحمتی تنظیموں کی حمایت کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں اردن کی انجینیر یونین کے سربراہ عبداللہ عبیدات بھی شامل ہیں۔
ان کی گرفتار کے بعد بھی عمان میں متعدد احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں جن میں گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
حراست میں لیے گئے 12 افراد میں انجینیر غسان دوعرم انصر ابوخضیر، احمد ابو خضیر، مصعب البورینی، احمد سمیر، بشیر الحسن ، عبدالرحمان، محمد قندیل، محمد القرنہ، ابراہیم الشیخ، انس عواد اور ادریس الرفاتئ پرالزام ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے خلاف مسلح تحریک چلانے کی حمایت کر رہے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
