عرب ممالک کی مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کی جانب سے عرب لیگ کے سربراہان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کل سے بغداد میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس کےایجنڈے میں مقبوضہ بیت المقدس کو ایجنڈے کا اہم ترین نقطہ قرار دیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اردن کی ایک دینی اور سیاسی جماعت :الوسط” نے عرب لیگ کے سربراہان سے کہا کہ ہے کہ ان کی کانفرنس کی سب سے زیادہ توجہ بیت المقدس کو یہودیانے کےخلاف جاری سازشوں پر ہونی چاہیے کیونکہ بیت المقدس کو لاحق خطرات اس وقت پورے عالم اسلام کے خطرات کے مترادف ہیں۔
الوسط پارٹی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا روکا جانا نہایت ضروری ہے اور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری عرب ممالک پرعائد ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ عرب سربراہ کانفرنس کل بغداد میں شروع ہو رہی ہے۔ عراق کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں تمام عرب ممالک کے سربراہان اور وزراء سمیت سیکڑوں اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ کانفرنس میں عرب ممالک بالخصوص شام میں جاری کشیدگی کےخاتمے پر بھی غور کیا جائے گا۔
الوسط پارٹی نے عرب سربراہ کانفرنس کے شرکاء کے نام ایک تحریری پیغام میں کہا ہےکہ بیت المقدس آج ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی پوری عرب اور اسلامی دنیا کا مرکزی مقام رہا ہے، اسے نظرانداز کر کے عالم عرب اور ملت اسلامیہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مادی وسائل سے بہرہ ور عالم اسلام کے پاس سب کچھ ہے لیکن تمام تر وسائل کے باوج
ود افسوس کی بات یہ ہےکہ دشمن نے بیت المقدس کو ایک نرم چارہ سمجھ رکھا ہے۔ بیت المقدس میں مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینی باشندوں کو وہاں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ بے گناہ لوگوں پر کو گرفتار کیا جاتا ہے اور اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرنےوالوں پر وحشی کتے چھوڑے جاتے ہیں جوانہیں بھنبھوڑتے ہیں اور چیر پھاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک کی جانب سے سخت پیغام جانا چاہیے اور عرب سربراہ کانفرنس کو کوئی جاندار اقدام کرنا چاہیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

