اسرائیل نے فلسطینی اسیرضرار ابو سیسی کو جیل میں مزید چھ ماہ کے لیے قید تنہائی میں ڈال دیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی حکومت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قیدیوں کے خلاف جنگی جرم سے تعبیر کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیل میں زیرحراست 42 سالہ ضرار ابو سیسی پچھلے ایک سال سے قید تنہائی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ فلسطینیوں کی طویل بھوک ہڑتال کے باوجود صہیونی حکام نے ابو سیسی کی تنہائی کی سزا ختم نہیں کی ہے اور انہیں مزید چھ ماہ کے لیے تنہا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمعرات کے روزبئر سبع کی ایک فوجی عدالت نے ضرار ابو سیسی کے مقدمہ کی سماعت کی۔ اس موقع پر فوجی پراسیکیوٹر جنرل نے ابو سیسی کی قید تنہائی میں چھ ماہ کی تجدید کی استدعا کی جسے منظورکرلیا تھا۔
خیال رہے کہ ضرار ابو سیسی کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹوں نے 18 فروری کو یوکرائن سے اغواء کیا تھا۔ ان پرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ساتھ تعلق کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ضرار پیشے کے اعتبار سے ایک انجینئر ہیں اور گرفتاری سے قبل وہ غزہ کی پٹی میں ایک الیکٹریکل کمپنی میں ملازم تھے۔
درایں اثناء ضرار ابو سیسی کی قید تنہائی کی تجدید پریورپی ممالک میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم یورپی نیٹ ورک برائے ہیومن رائٹس نے صہیونی عدالتی فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ یوکرائن اور یورپی یونین کو بھی ضرار ابو سیسی کے ساتھ جیل میں ہونے والی بدسلوکی کا ذمہ دار قراردیا۔ یورپی نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی عدالت سے ایک معصوم فلسطینی کو قید تنہائی کی سزا میں مزید چھ ماہ کی توسیع قیدیوں کے حوالے سے ایک جنگی جرم ہے۔ اسرائیل اس طرح کے اقدامات سے بے گناہ لوگوں کے اغواء کےجرائم کی پردہ پوشی کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ضرار ابو سیسی کے اغواء میں یوکرائن اور یورپی یونین بھی برابر کے ہیں، کیونکہ ان کی ملی بھگت کے تحت ہی ابو سیسی کو دو سال قبل یو کرائن سے اغواء کیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
