فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کے خلاف ہونے والے روز مرہ فلسطینیوں کے مظاہرے، فلسطینیوں کی جانب سے ان پر سنگ باری اور دیگر پرتشدد واقعات کے باعث اسرائیلی ریاست کے سیاسی اور ابلاغی حلقے سخت پریشان ہیں۔
اسرائیل کے ایک تجزیہ نگار نے بیت المقدس کی موجودہ صورت حال کو "منی تحریک انتفاضہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جون میں ایک کم عمر لڑکے ابو خضیر کے یہودی انتہا پسندوں کے ہاتھوں اغواء کے بعد قتل نے بیت المقدس کا نقشہ تبدیل کردیا ہے۔ اس واقعے کے بعد روز مرہ کی بنیاد پر فلسطینی شہری یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوجیوں پر سنگ باری کرتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت” کے کالم نگار "ناحوم برنیاع” نے اپنے ایک تازہ مضمون میں بیت المقدس می موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابو خضیر کی شہادت کےبعد بیت المقدس چھوٹی تحریک انتفاضہ سے گذررہا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے اڑھائی ماہ کے دوران مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی بہت کم ایسی گاڑیاں ہوں گی جنہیں سنگ باری کا نشانہ نہ بنایا گیا ہوگا۔ ابو خضیر کی شہادت کے بعد اب یہودیوں پر حملے روز کا معمول بن چکے ہیں۔
صہیونی تجزیہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ یہودی انتہا پسندوں نے ماہ صیام کے دوران ایک فلسطینی لڑکے کو پکڑ کر اذیتیں دے کر شہید کرنے کا ایک گھناؤنا جرم کیا ہے جس نے یہودی آباد کاروں کو اس قسم کی صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔
برنیاع مزید لکھتا ہے کہ بیت المقدس کے ایک پولیس افسر یوسی فراینٹی کا کہنا ہے کہ ابو خضیر کے قتل کے بعد انہیں فلسطینیوں کی جانب سے پرتشدد راستہ اختیار کرنے کی توقع تھی اور جو کچھ پچھلے عرصے سے ہو رہا ہے یہ غیر متوقع بھی نہیں ہے۔ فلسطینی نہ صرف یہودی آباد کاروں پر سنگ باری کرتے اور فوج اور پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ مشرقی بیت المقدس میں وہ کھلے عام آتش بازی کرتے، پائپ لائنوں کو بھی دھماکے سے اڑا رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
