مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شہید کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے دوران ڈاکٹر احمد الطیبی نے کہا کہ ایک نہتے اور معصوم بچے کو نہایت بے دردری سے شہید کیے جانے پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ اس واقعے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ فلسطینیوں کو انتہا پسند یہودی خون خوار بھیڑیوں کا سامنا ہے۔ اس جرم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ڈاکٹر الطیبی نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں نہتے اور کم سن بچوں کے اغواء اور قتل کی تحقیقات کرائے اور آئندہ اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو آئے روز انتہا پسند یہودیوں کی طرف سے جان سے مار ڈالنے سمیت دیگر طرح طرح کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ ہمارے لیے زندہ رہنے کے راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے ہم انسانی حقوق کےعالمی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے درپیش خطرات سے بچائیں۔
اس موقع پر اسرائیلی پارلیمنٹ کےعرب رکن ڈاکٹر الطیبی نے گذشتہ مہینے کے وسط میں الخلیل سے تین ہہودی آباد کاروں پراسرار گم شدگی اور انہیں مردہ حالت میں پائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے دوران دشمن کے کچھ لوگوں کو اگر جنگی قیدی بنایا جاتا ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ احمد الطیبی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے تین یہودی لڑکوں کے قتل پر آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے جبکہ سنہ 2000ء کے بعد سے اب تک 1500 فلسطینی بچے ظالمانہ طریقے سے شہید کیے جا چکے ہیں۔ کیا وہ سب انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے تھے۔ ان کے کوئی حقوق نہیں تھے۔
