رپورٹ کے مطابق فلسطینی محکمہ شہری دفاع کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابراہیم دوابشہ کے گھر کو ایک سے زاید مقامات سے آگ لگائی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک طے شدہ سازش تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا کیونکہ گھر کوبجلی فراہم کرنے کا مرکزی سوئچ بالکل محفوظ تھا۔ اس تک آگ نہیں پہنچ پائی تھی۔ اگر آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگتی تو بجلی کی تمام تاریں اور وائرنگ جل چکی ہوتی۔
ادھر دوما قصبے کے ایک مقامی فلسطینی سماجی کارکن عمر دوابشہ کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ابراہیم دوابشہ کے گھر پرپہلے پٹرول بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مکان میں آگ بھڑک اٹھی۔ ابراہیم اور ان اہل خانہ گھر میں سو رہے تھے۔ انہوں نے آگ لگتے ہی خود کوسنھبالنے کے ساتھ ساتھ آگ بجھانے کی کوشش کی مگرابراہیم اس دوران جھلس کرزخمی ہوگئے۔
عمر دوابشہ کا بھی یہی کہنا تھاکہ فلسطینی شہری دفاع کی ٹیم نے نذرآتش کیے گئے مکان کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں یہ کہا ہے کہ مکان کو ایک سے زاید مقامات سے آگ لگائی گئی اور یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہی کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ابراہیم محمد دوابشہ وہ فلسطینی شہری ہیں جو دوما قصبے میں گذشتہ برس مئی میں یہودیوں کے حملے میں ایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کے اکلوتے عینی شاہد ہیں۔ یہودی انتہا پسند انہیں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔
