اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کے علاقے یطا ٹاؤن میں آثار قدیمہ کی تلاش کے بہانے کھدائیاں شروع کردی ہیں۔ ادھر اہل علاقہ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی آثار کی تلاش کا بہانہ بنا کر اسرائیل ان کی اراضی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
مقامی افراد نے بتایا کہ اسرائیلی انتظامیہ کی مشینری نے اتوار کے روز علی الصبح یطا ٹاؤن میں ”ماعون” اور ”کرمئیل” نامی یہودی بستیوں کے درمیان اراضی کو کھودنا شروع کردیا اور جواز یہ تراشا کہ وہ یہاں پر آثار قدیمہ کی تلاش میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب یطا میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف سرگرم ”قومی کمیٹی” کے ڈائریکٹر راتب الجبور نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اس اراضی کو ہتھیانا چاہتاہے اور وہ تاریخی آثار کی تلاش کا بہانہ بنا کر اس اراضی کو ”ماعون” بستی میں ضم کردیگا۔
راتب الجبور نے یاد دلایا کہ کچھ ہفتے قبل بھی یطا میں التوانی گاؤں کی اراضی پر ایسے ہی قبضہ کیا گیا تھا۔ یہاں پر آثار قدیمہ اتھارٹی کی آمد کے بعد یہودی آباد کاروں نے قبضہ کرلیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
