عینی شاہدین نے بتایا کہ سنہ 1948 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقے اللد میں اتوار کے روز علی الصباح تین یہودی آباد کاروں نے ایک فلسطینی نوجوان عماد ابو شرخ کو اغواء کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسےشدید زخمی کرنے کے بعد ویران علاقے میں پھینک کر فرار ہوگئے۔
عینی شاہدین کاکہنا تھا کہ ابو شرخ نماز فجرکی ادائی کے بعد جامع مسجد الکبیر سے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ تین نقاب پوش یہودی دہشت گردوں نے اسے اغواء کیا اور ساتھ لے گئے۔ فلسطینی شہریوں نے ان کا پیچھا کیا تو اسے ایک ویران جگہ پرخون میں لت پت پایا۔ فلسطینی شہری کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر تیز دھار آلے سے وار کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں اس کی حالت تشویشناک ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے ابو شرخ کو اغواء کے بعد قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ شدید زخمی ہونے کے بعد انہوں نے سمجھا کہ فلسطینی نوجوان کا کام تمام کردیا گیا ہے اور وہ موقع واردات سےفرار ہوگئے۔
ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوشرخ کو اس کے گھر کے قریب انتہا پسند یہودیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا جب اہل خانہ نے یہودیوں کو اسے مارتے پیٹتے دیکھا تو وہ اسے بچانے کے لیے دوڑے تاہم یہودی دہشت گرد اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
زخمی فلسطینی کو مقبوضہ فلسطین کے "اساف ھروفیہ” اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ابو شرخ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے جس کے باعث اس کی حالت سخت خطرے میں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
