اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کے مطابق آج اتوار کے روز فجر کی نماز میں ہی مشرقی القدس اور 48ء کے مقبوضہ فلسطین سے مردوخواتین، بچے اور بزرگوں کی بڑی تعداد مسجد اقصی میں پہنچ چکے تھے۔ نماز فجر کے بعد مختلف کالونیوں سے فلسطینی طلبہ کی بڑی تعداد بھی مسجد اقصی میں پہنچ چکی ہے۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ مسجد اقصی کے چاروں اطراف اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ مسجد اقصی کا مراکشی دروازہ کھلا ہوا ہے۔ تاہم مسجد اقصی میں اب تک یہودیوں اور مسلمان نمازیوں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
اتوار کے روز فجر کے وقت بعض انتہاء پسند یہودی آباد کاروں نے اسباط دروازے سے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ اس کے بعد یہودی آباد کار مسجد کے دیگر دروازوں کی جانب پھیل گئے اور مسجد اقصی میں گھس کر تلمودی عبادات کی ادائیگی کی کوشش کرتے رہے۔ اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ صبح سات بجے اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور مسجد میں موجود نمازیوں کی تصاویر لینا شروع کردیں جس کے بعد نمازی شدید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کرنا شروع کر دیے۔ آدھے گھنٹے بعد اسرائیلی فوجی مسجد سے نکل گئے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
