عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ یہودی شرپسندوں کی بڑی تعداد نے اتوار کو علی الصباح سلفیت گورنری کے مغرب میں واقع کفرالدیک اور رافات قصبوں پرقبضہ کیا۔ ان قصبوں پر دھاوا بولنے والے یہودی قریب ہی واقع ایک یہودی کالونی’’لشیم‘‘ سے آئے تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے کئی گھنٹے تک دیر سمعان کے تاریخی مقام پر قبضہ کیے رکھا اور اس جگہ کو ملانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کی آمد ور فت بند کردی تھی۔
فلسطینی سماجی کارکن اور یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم کمیٹی کے سربراہ خالد المعالی نے بتایا کہ یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینی تاریخی مقامات پرقبضے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی یہودی آباد کار متعدد بار اس طرح کی شرپسندانہ کارروائیاں کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سنہ 2013 ء میں ’’لشیم‘‘ یہودی کالونی کے یہودی آباد کاروں نے کفر الدیک اور رافات قصبوں کا محاصرہ کرکے کئی روز تک تاریخی مقامات کو یرغمال بنائے رکھا تھا۔
المعالی کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں کی طرف سے نہ صرف تاریخی مقامات پرقبضہ کیا جاتا ہے بلکہ یہاں پر مذہبی نوعیت کی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کفر حارس سلفیت کا وہ مقام ہے جہاں بنی اسرائیل کےکئی انبیائے کرام کی آخری آرام گاہیں واقع ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
