"مرکزاطلاعات فلسطین” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الشیخ بکیرات کا کہنا تھا کہ ویسے تو یہودیوں کا مسجد اقصیٰ میں داخلے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے لیکن انہوں نے خود ہی روزانہ کچھ اوقات قبلہ اول میں داخل ہوکر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص کررکھے ہیں۔ روزانہ فلسطینیوں اور مسلمانوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے اور عبادت کرنے سے روکا جاتا ہے۔ یہ تمام اقدامات مسجد اقصیٰ کی تقسیم کا حصہ ہیں۔ یوں اس اعتبار سے یہودیوں نے قبلہ اول کو زمانی طورپر تقسیم کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہودیوں نے چونکہ قبلہ اول کو زمانی طور پر تقسیم کررکھا ہے اور اب وہ مکانی تقسیم کی بھی سازشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت اور فوج مل کر انتہا پسندوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی سہولیات فراہم کررہی ہیں، جس سے یہودیوں کی قبلہ اول پر یلغار کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
