مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب الشیخ محمد حسین نے فلسطینی قوم پر بیت المقدس کے دفاع کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے القدس کو سال 2018ء کے لیے اسلامی یوتھ کا دارالحکومت قرار دینا خوش آئند ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں ممتاز فلسطینی عالم دین نےÂ کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے حالیہ ہفتوں کے دوران القدس کے حوالے سے اٹھائے اقدامات باطل اور غیرقانونی ہیں۔ ان کی کوئی آئینی اور اخلاقی حیثیت نہیں۔الشیخ محمد حسین نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے القدس کے حوالے سے اٹھائے گئے تمام اقدامات باطل ہیں جنہیں کسی قسم کی آئینی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ ایسے ظالمانہ اقدامات کی حمایت تاریخ کرے گی اور نہ ہی تہذیب۔ القدس بالادستی صرف اس کے اصل باشندوں ہی کو حاصل رہے گی۔
الشیخ محمد حسین نے الدس کے حوالے سے حالیہ اور سابق قراردادوں پرعمل درآمد میں کوتاہی برتنے پر عرب اور مسلمان ممالک پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے دفاع القدس کے لیے قراردادوں کا نفاذ کرنا تھا وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے مقابلے کررہے ہیں۔
کل جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں 50 ہزار فلسطینیوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔
