مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے رز بھی لندن میں برطانوی وزیراعظم سیکرٹیریٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں شرکت کرنے والوں میں دوسرے مسلمان ملکوں، عرب شہریوں اور مقامی سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور صہیونی ریاست کے مظالم کے خلاف احتجاجی نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاھو کو دورہ لندن سے روکیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو 9 ستمبر کو برطانیہ کے دورے پر لندن پہنچ رہے ہیں جہاں وہ اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے بھی ملاقات کریں گے۔
نیتن یاھوکے دورہ لندن کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے آئندہ ایک ہفتے کےدوران احتجاجی مظاہرے کرنےکا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ برطانوی حکومت نیتن یاھو کو لندن آمد پرگرفتار کرکے اور اسے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام کے جرم میں عالمی فوج داری عدالت میں پیش کرے یا نیتن یاھو کو دورے سے روک دے۔
برطانوی شہریوں کی جانب سے نیتن یاھو کی آمد کے خلاف یہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں شروع کیے ہیں جب ایک برطانوی شہری نے نیتن یاھو کی گرفتاری کے حوالے سے ایک پٹیشن تیار کی ہے جس پراب تک 90 ہزار افراد نے دستخط کردیے ہیں۔ اگر یہ تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچتی ہے تو نیتن یاھو کی گرفتاری کے مطالبے کو برطانوی پارلیمنٹ میں زیربحث لایا جائے گا۔
