فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بیت المقدس کی نام نہاد بلدیہ نے ’میلہ چراغاں‘ کی آڑ میں بیت المقدس کی دیواروں Â ایسی ڈیزائن کی روشنیاں جلائی گئیں جن سے شہر کی اسلامی تاریخ و عرب تہذیب وثقافت کے بجائے یہودی اور عبرانی تاریخ کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی۔
مختلف رنگوں کی روشنیوں سے تیار کردہ Â فنی خاکوں کے ذریعے بیت المقدس پر یہودی روایت اور تہذیب وثقافت کو مسلط کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ القدس یہودیوں کا تاریخی شہر ہے جس پر فلسطینیوں اور مسلمانوں کا کوئی حق نہیں۔
فلسطینی وزیر برائے القدس امور عدنان الحسینی نے بتایا کہ صہیونی انتظامیہ نے اموی محلات اور شہر کی تاریخی اسلامی عمارتوں پر چراغاں کرکے القدس کی حقیقی شناخت کو چھپانے اور یہودیت کا رنگ چڑھانے کی مذموم کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہودی انتظامیہ القدس پر عبرانیت اور اسرائیلی رنگ نمایاں کرنے اور شہر کو یہودی مذہب کا گہوارہ ثابت کرنے کے لیے جعلی تاریخی روایات کا سہارا لیتی ہے۔
عدنان الحسینی کا کہنا تھا کہ القدس کے تاریخی مقامات شہر کی فلسطینیت اور عربیت کا سب سے بڑا استعارہ اور ثبوت ہیں مگر صہیونی انتظامیہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پورے فلسطین بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس کی تہذیب کو مسخ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ آئے روز ثقافتی یلغار کے ذریعے القدس کو فلسطینی قوم سے الگ تھلگ کرنے کی مجرمانہ حرکات کی جاتی ہیں۔ نام نہاد میلہ چراغاں بھی انہی Â مکروہ سازشوں کا تسلسلہ ہے۔
