یروشلم سٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یکم جنوری 2014ء سے 30 جون تک 2100 نئے گھروں کی تعمیر پر کام شروع کیا گیا۔ لیکن اس چیز کا ذکر نہ کیا گیا کہ یہ گھر کن علاقوں میں بنائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ پورا مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا اٹوٹ حصہ ہے۔ لیکن فلسطینی ہی نہیں پوری دنیا اسرائیل کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی۔
سیٹلمنٹ واچ ڈاگ کے طور پر کام کرنے والے ادارے کے مطابق اسرائیل نے راواں سال کی پہلی ششماہی میں 25 فیصد گھر عربوں کے اسی مقبوضہ علاقے میں بنائے ہیں جو 1967ء کی جنگ کے دوران اسرائیل قبضے میں آئے تھے۔
اسی طرح بعد ازاں قبضے میں لیا گیا مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی علاقہ بھی بین الاقوامی برادری اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی ہے۔
سیٹلمنٹ واچ ڈاگ کے ذمہ دار عرفان کے مطابق:
”اس مقبوضہ علاقے میں بنائے گئے گھروں کی تعداد 500 ہے جو حالیہ برسوں کے دوران مقبوضہ علاقے میں بنائے گئے گھروں سے بھی زیادہ ہیں۔”
خیال رہے فلسطینی عوام مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی اعلان کردہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل کا اس علاقے میں یہودی بستیاں بنانا بین الاقوامی برادری کی تنقید کا باعث بنتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس مقبوضہ علاقے میں تین لاکھ چھ ہزار فلسطینی مقیم ہیں۔ یہ فلسطینی مجموعی آبادی کا 38 فیصد ہیں۔ اس علاقے میں دو لاکھ نئے یہودی پہلے ہی بسائے جا چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
