فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے یہودی توسیع پسندی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ غرب اردن کا شمالی شہر یہودی آباد کاری کے لیے نسبتا سستا ہے جہاں یہودی آباد کاروں کو کم قیمت پرمکانات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ سلفیت میں پچھلے چند ماہ کے دوران مزید سیکڑوں یہودی خاندان آباد کیے گئے ہیں۔ یہودیوں کی تعداد میں اضافے نے فلسطینی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
یہودی آباد کاری کے امور کے ماہر خالد معالی کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار مغربی کنارے کی کسی بھی دوسری یہودی کالونی کے بجائے سلفیت شہر میں موجود کالونیوں میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ سلفیت کی یہودی کالونیوں میں نسبتا سستے رہائشی فلیٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔
رہائشوں کے سستا ہونے کے ساتھ ساتھ سلفیت کی فضاء قدرتی مناظر کے اعتبار سے نہایت دلکش ہے۔ اس کے ٹیلے اور پہاڑ، وادی اور صحرا سبھی قدرت کے حسین نظارے پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی آباد کار اس شہر کی طرف لپکے چلے آ رہے ہیں۔
خالد معالی کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کار خود ہی توسیع پسندی کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے ساتھ ان کے کھیتوں پر قبضہ اور پھل دار پودوں کی تلفی سے فلسطینیوں کو ان کی اراضی سے دور ہٹانے کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں صہیونی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی کے لیے 1800 نئے مکانات کی تعمیر کااعلان کیا ہے۔ ان میں سے بڑی تعداد میں مکان سلفیت میں تعمیر کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
