فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارےمیں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعہ کو عباس ملیشیا نے مغربی کنارے کے شہروں الخلیل اور نابلس میں چھاپہ مار کارروائیوں میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے چار اہم رہ نماؤں کو حراست میں لے لیا۔ اس دوران کئی اراکین کو تھانوں میں پیشی کے نوٹسز بھی جاری کیے گئے ہیں۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس میں تلاشی کی کارروائی میں حماس کے سابق اسیر جمال الزبیدی کو حراست میں لے لیا۔ الزبیدی کئی مرتبہ عباس ملیشیا اور اسرائیلی جیلوں میں حراست میں رہ چکے ہیں اوران کے ایک بھائی عماد الزبیدی کو قابض فوج نے کچھ عرصہ قبل گولیاں مارکر شہید کردیا تھا۔ نابلس کے جنوب میں تل کے مقام سے سابق اسیر یوسف طالب سلوادی کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لے لیا گیا۔ وہ جمعرات کی شام کو عباس ملیشیا کی جیل سے رہا ہوئے تھے۔
ادھرنابلس کی مجسٹریٹ عدالت نے اسیر معاذ یوسف ریحان کو پندرہ دن مزید پولیس کی تحویل میں رکھنے کی اجازت دی ہے۔
درایں اثناء الخلیل شہر میں عباس ملیشیا کی کارروائیوں میں حماس کے رہ نما محمد ابو صالح اور بسام غنیمات کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ احمد القاضی، شادی ابراہیم اور دیگر کئی اراکین کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔ تاہم ان کے گھروں میں ان کے لیے نوٹسز چھوڑے گئے ہیں کہ وہ جلد از جلد خود کو پولیس کے مراکز میں پیش کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

