فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں یہودی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے درجنوں فلسطینی مظاہرین زخمی ہو گئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بدھ کے شام مقبوضہ شہر الخلیل میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک سترہ سالہ نوجوان محمد زیاد عوض السلامہ کی شہادت کے خلاف فلسطینیوں کی بڑی تعداد بیت امر کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ کر رہی تھی کی اس موقع پرصہیونی فوج نے ان پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین پر وحشیانہ انداز میں لاٹھیاں برسائی گئیں اوران پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ فلسطینی شہریوں اور صہیونی فوج کے درمیان کئی گھنٹے تک آنکھ مچولی الخلیل شہرمیں طارق بن زیاد اسکول کے گراؤنڈ میں جاری رہی۔ قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھیاں برسائیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے، جس کے نتجے میں کم سے کم پندرہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین نے صہیونی فوج کی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا اور ایک گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مظاہرین کے جوابی پتھراؤ کےبعد قابض فواج واپس ہو گئی تاہم تشدد کے نتیجے میں کئی فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ منگل کے روز قابض صہیونی فوج نے ایک فلسطینی لڑکے کو گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا جس کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی اور غم و غصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
