فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد صدر عباس نے اسرائیل سے تمام رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسرائیل فلسطینی قوم کے خلاف بالخصوص قبلہ اوّل اور بیت المقدس میں فلسطینیوں پر عائد کردہ پابندیاں نہیں اٹھاتے تل ابیب سے رابطے معطل رہیں گے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ جاری فوجی شعبے میں تعاون بھی منجمد کررہی ہے یا نہیں۔
صدر عباس نے کہا کہ نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں مسجد اقصیٰ پر بالادستی کے قیام کے لیے اٹھائے گئے اسرائیلی اقدامات کو فلسطینی قوم نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر امن مساعی کو آگے بڑھانے سے فرار اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ اسرائیل بامقصد بات چیت کی بحالی کے بجائے سیاسی، مذہبی کشمکش کو ہوا دینے اور قبلہ اوّل کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازشوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کی بہبود، اداروں اور کاروباری حلقوں کے لیے 25 ملین ڈالر کی رقم مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔
خیال رہے کہ کل جمعہ کو مشرقی بیت اور مقبوضہ مغربی کنارے سمیت فلسطین بھر میں قبلہ اوّل کے دفاع اور اسرائیلی پابندیوں کے خلاف’یوم الغضب‘ منایا گیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید اور 450 زخمی ہوئے ہیں۔
