مقدس مقامات کی بے حرمتی انتہا پسند یہودی سیاست دانوں کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ انہیں اقتدارتک پہنچنا ہوتا ہے، چاہے اس مقصد کے لیے انہیں کسی بھی قسم کے قبیح جرم کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
پچھلے چند دنوں سے الخلیل میں مسجد ابراہیمی یہودی انتہا پسند سیاست دانوں کے ہاتھوں مسلسل پامال ہو رہی ہے۔ دو روز قبل اسرائیلی رکن کنیسٹ نفتالی بینٹ نے مسجد ابراہیمی میں داخل ہو کر یہودیوں سے خطاب کیا اور مذہبی رسومات ادا کرکے یہودی انتہا پسندوں کی حمایت کے حصول کی ناکام کوشش کی۔ کل اتوار کو اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبر مین مسجد ابراہیمی کے جنوب مشرقی دروازے سے انتہا پسندوں کے جھرمٹ میں اندر داخل ہوئے۔ لائبرمین نے توراتی طریقے سے نماز پڑھی، اس کے بعد وہاں پر جمع ہوئے یہودیوں کے سامنے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے موضوع پر تقریر کی۔
یہودی توسیع پسندی کی کوشش
مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر الشیخ منذر ابو الفیلات نے اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبر مین کے مسجد ابراہیمی پردھاوے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لائبرمین کا یہ دورہ غیراعلانیہ تھا جس کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ ہمیں تو اس وقت پتا چلا کہ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے واپس بھی چلا گیا۔
ابو الفیلات کا کہنا ہے کہ لائبرمین کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں دھاوے اور الخلیل شہر میں دورے کا ایک خاص مقصد تھا۔ وہ اپنے لیے یہودی انتہا پسندوں کے ووٹ تو مانگ ہی رہے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے اس دورے کا مقصد مغربی کنارے میں یہودی توسیع پسندی کے مزید اقدامات کا جائزہ لیناتھا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صہیونی عہدیدار کی جانب سے مسجد ابراہیمی میں داخلہ اور الخلیل آمد کا اصل مقصد یہودی توسیع پسندی ہی ہوتی ہے۔ الخلیل میں آنے والا ہرصہیونی سیاست دان مغربی کنارے کے یہودیوں کو تسلی دینے اور انہیں مطمئن رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ حرم ابراہیمی کے ہوتے ہوئے انہیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ حرم ابراہیمی تمام یہودیوں کے دلوں میں بستا ہے۔ وہ صرف انتخابات ہی کے موقع پر یہاں نہیں آتے بلکہ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ یہاں حاضری دیتے ہیں۔
ترجیحات
الخلیل کے دورے سے واپسی کے بعد تل ابیب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے لائبرمین نے کہا کہ ان کا دورہ الخلیل معمول کا واقعہ ہے۔ وہ جس طرح دوسرے شہروں کے دورے کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے الخلیل کا بھی دورہ کرلیا۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخلیل شہریہودیوں کا مرکز ہے اور وہ کسی صورت میں اس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی ماضی میں تمام حکومتوں نے الخلیل شہر پرخصوصی توجہ مرکوز کیے رکھی۔ ہرحکومت کی اولین ترجیح الخلیل کو اس کے اصلی باشندوں[فلسطینیوں] کے وجود سے پاک کرکے اسے یہودی شہرمیں تبدیل کیا جائے۔ اپنے اس مذموم مقصد کی تکیمیل کے لیے صہیونی حکومتوں نے حرم ابراہیمی جیسے
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
