• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

قرارداد ویٹو کرنے کے لیے مصر نے امریکا کو بھرپور موقع دیا: ماہرین قانون

بدھ 20-12-2017
in فلسطین
0
0Pala9577
0
SHARES
0
VIEWS

رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) عالمی ماہرین قانون نے دعویٰ کیا ہے کہ دو روز قبل مصرکی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے امریکا کو بھرپور موقع فراہم کیا گیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ سلامتی کونسل میں القدس کے حوالے سے قرارداد کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ویٹو کرایا گیا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر اور فلسطین کے ممتاز دانشور ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے کہا ہے کہ  سوموار کے روز سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو امریکا ویٹو نہ کرسکتا اگر قرارداد میں امریکا کا نام شامل ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ مصرکی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں القدس کا مجمل تذکرہ کیا گیا تھا۔ القدس کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے پر امریکا کو فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی قرارداد میں امریکا کا کوئی تذکرہ کیا گیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دستور کے آرٹیکل 27 کی دفعہ 3 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل کا کرئی مستقل رکن یا ویٹو پاور رکھنے والا ملک کسی تنازع میں براہ راست فریق ہو تو اس تنازع کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد میں اس ملک کو رائے شماری میں حصہ لینے کا اختیار نہیں۔

اس طرح اگر مصر کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست تسلیم کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا حوالہ دیا جاتا تو امریکا کو اس قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار نہ ہوتا۔ مگر اس قرارداد میں امریکا کا تذکرہ نہ کرکے واشنگٹن کو القدس کے حوالے سے پیش کردہ قرارداد ویٹو کرنے کا موقع دیا گیا۔

فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد مصر کی طرف سے پیش کی گئی مگر اس قرارداد کی درخواست فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے دی گئی تھی۔ اس قرارداد میں القدس کے حوالے سے سابقہ قراردادوں بالخصوص قرارداد 478 کا ذکر کیا گیا جس میں 30 جولائی 1980ءکو اسرائیلی کنیسٹ کی طرف سے القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کی مخالفت کی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں حنا عیسیٰ نے کہا کہ امریکا نے عرب اور فلسطین سے متعلق 43 قرار دادیں ویٹو کی ہیں۔ ان میں سے 14 قراردادیں بیت المقدس سے متعلق ہیں جب کہ القدس کے حوالے سے مجموعی طور پر 84 قراردادیں سلامتی کونسل میں منظور ہوچکی ہیں۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombie
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.