رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کی جانب سے فلسطین میں صیہونی بستیوں کی تعمیر غیرقانونی اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ اطلاعات کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین میں صیہونی توسیع پسندی اور آباد کاری کی حمایت اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1967ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کالونیوں کی تعمیر اور اسرائیلی توسیع پسندانہ منصوبوں کی حمایت مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کی مساعی کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فیس بُک کی طرف سے بیت المقدس کی صیہونی کالونیوں کو القدس میں شامل کرنے اورالقدس کے نقشے میں ظاہر کرنا اقوام متحدہ کی قرارداد 2334 کی خلاف ورزی اور چار جون 1967ء کی جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں صیہونی ریاست میں ضم کرنے کی سازشوں کو آگے بڑھانا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فیس بک کیÂ ممالک اور حکومتوں کے ساتھ رابطے کی ذمہ دار یرڈینا کوٹلر نے اسرائیلی نائب وزیرخارجہ زیپی حوٹوفیلی کی طرف سے دی گئی درخواست منظور کرلی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ فیس بک بیت المقدس اور اس کے اطراف میں صیہونیوں کے لیے قائم کی گئی کالونیوں کو القدس کے نقشے میں شامل کرے اور القدس کو صیہونی ریاست کا شہر قرار دے۔
’فیس بک‘ سنہ 1967ء کے بعد بیت المقدس میں التلہ الفرنسیہ۔ گیلو، بیسگات زئیوف، ھار حوما، نافیہ یعقوب اور کئی دیگر صیہونی کالونیوں کو صیہونی ریاست میں ضم کردیا ہے۔
اسرائیلی نایب وزیرخارجہ نے فیس بک کی انتظامیہ تک صیہونی آباد کاروں کی بعض شکایات بھی پہنچائی ہیں۔ ان میں ایک یہ شکایت بھی شامل ہے کہ ان کے صفحات پر اسرائیلی تجارتی کمپنیوں کے اشتہارات دکھائی نہیں دیتے۔
حوٹوفیلی نے فیس بک کے نام اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ یہ بات غیرمعقول ہے کہ ویب سائیٹ مشرقی بیت المقدس کی صیہونی کالونیوں کو القدس میں شامل نہ کرے۔
اخباری رپورٹ کے مطابق فیس بک کی عہدیدار یرڈینا کوٹلر کچھ عرصہ تک اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر میں کام کر چکی ہیں۔
