فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز غزہ کی پٹی میں تنظیم آزادی فلسطین کے شعبہ شہداء و زخمیان کے دفتر کے باہر کئی گھنٹے شہداء کی بیواؤں، یتیموں اور ان کی ماؤں نے دھرنا دیا۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی پٹی کے درجنوں شہداء کے لواحقین کو فراہم کیا جانے والا مالی تعاون ختم کردیا تھا۔
کل سوموارÂ کوسیکڑوں یتیم بچوں اور بیوہ خواتین نے فلسطینی مانیٹری اتھارٹی اور تنظیم آزادی فلسطین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے پی ایل او سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بند کیے گئے مالی وظائف بحال کریں۔
اس موقع پر انسانی حقوق کے مندوبین نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرےسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی شہداء کے یتیم بچوں اور بیواؤں کی سرپرستی ترک کرکے ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کی مرتکب ہو رہی ہے۔
غزہ کی پٹی میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے ایک گروپ کے ڈائریکٹرÂ خازم النخالہ نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نےسیکڑوں یتیم بچوں اور غریب بیواؤں کے وظائف روک رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیواؤں اور یتیم بچوں کے خاندانوں میں غربت کا تناسب 70 فی صد تجاوز کرچکا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2014ء کو غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران 2100 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔ شہداء کی بڑی تعداد شادی شدہ فلسطینیوں پر مشتمل تھی۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے یتیم بچے اور بیوائیں بے آسرا ہوگئی تھیں۔
