مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردنی حکومت کے ترجمان اور وزیر مملکت برائے ریاستی امور ڈاکٹر محمد المومنی نے عمان میں ایک نیوز کانفرنس کےدوران کہا کہ صہیونی ریاست کے سیکیورٹی اداروں، پولیس اور فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول میں عبادت سے روکنا ناقابل برداشت ہے۔ مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں کے داخلے پرعاید پابندیوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایک طرف اسرائیلی افواج اور پولیس فلسطینی شہریوں کو قبلہ اول میں نماز کی ادائی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری جانب انتہا پسند یہودیوں کو مقدس مقام میں داخلے کی نہ صرف کھلی اجازت ہے بلکہ انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جا رہی ہے۔ اردن اسرائیل کی اس دوغلی پالیسی کو کسی صورت میں قابل قبول نہیں سمجھتا۔ اسرائیل کی موجودہ پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قبلہ اول کے موجودہ آئینی اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی سازش کررہا ہے۔ یہودیوں کو قبلہ اول میں داخلے کی کھلی چھٹی دینا اور فلسطینی نمازیوں کو روکنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اردنی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عمان وزارت مذہبی امور واوقاف نے بیت المقدس میں موجود مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے 52 نئے محافظ بھرتی کیے ہیں جب کہ آئندہ چند ماہ میں مزید 70 محافظ بیت المقدس بھیجے جائیں گے۔
محمد المومنی نے صہیونی ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانون کے پہلے قبلہ اور عالم اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام [مسجد اقصیٰ] کی بے حرمتی سے باز رہے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ یہودی آباد کاروں کا قبلہ اول میں داخل ہونا اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینی نمازیوں کو روکنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
