مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ کے قریب واقع نبی صالح گاؤں میں دسیوں فلسطینی نوجوان اس فوجی راستے کو دوبارہ کھلوانے میں کامیاب ہو گئے
جسے صہیونی فوجیوں نے بند کر دیا تھا۔ اس کارروائی کے موقع پر فلسطینی نوجوانوں اور قابض فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔
بنی صالح گاؤں میں عوامی مزاحمتی تحریک کے ذرائع نے قدس پریس کو بتایا کہ منگل کے روز قابض فوجیوں اور گاؤں نبی صالح کے نوجوانوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ نوجوانوں کے حملے سے گاؤں میں داخلے کا وہ دروازہ کھل گیا جسے اسرائیلی فوجیوں نے بند کر رکھا تھا۔ صہیونی فوج نے نوجوانوں پر فائرنگ کی تاکہ وہ دروازہ کھولنے میں کامیاب نہ ہو سکیں لیکن اس کے باوجود وہ لوہے کا دروازہ کھلوانے میں کامیاب رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گاؤں داخلے کے صدر دروازے کی بندش سے گاؤں اور بنی زید علاقے میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی جس کی وجہ سے شہریوں کو علاقے میں داخلے اور باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کو شہر میں داخلے کے لئے کئی کلومیڑ دور کچے راستوں پر پیدل چلنا پڑا۔ دروازہ کھلوانے کی کوشش کرنے والے فلسطینی نوجوانوں پر صہیونی فوجیوں نے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں فائر کیں۔ گیس کی شدت سے بہت سے نوجوان دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
