مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی انتہا پسند اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین کی جماعت ’’یسرائیل بیتونو‘‘ نے پارلیمنٹ میں فلسطینی مساجد میں لائوڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کا مسودہ قانون دوبارہ ایوان میں پیش کیا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کی جانب سے شائع ایک رپورٹ میں مساجد سے بلند ہونے والی اللہ اکبر کی صداء کو ’’شور و غوغا‘‘ قرار دے کر اس کی تضحیک اور توہین کی گئی ہے اور ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پیش کردہ اس مسودہ قانون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بیت المقدس کی تمام مساجد پر لائوڈ اسپیکر پراذان دینے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔
مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس، جزیرہ نما النقب، مغربی کنارے بالخصوص الخلیل شہر میں روزانہ سیکڑوں مساجد سے بلند ہونے والی اذان کی آوازیں یہودی آباد کاروں کے لیے ذہنی اور نفسیاتی پریشانی کا موجب بن رہی ہیں۔ لٰہذا حکومت اپنے زیر انتظام علاقوں میں موجود تمام مساجد میں لاوڈ اسپیکروں پر اذان دینے پر پابندی لگائے۔
خیال رہے کہ اسی نوعیت کا ایک مسودہ قانون اسی جماعت نے دو سال قبل بھی پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا تاہم اس پر بحث کا فیصلہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
