پیر کے روز منعقد کئے جانے والے ایک مارچ نے نبی صالح گائوں پر مسلط تین روزہ سیکیورٹی محاصرہ توڑ دیا اور مارچ کے شرکاء گائوں میں داخل ہوگئے۔
درجنوں فلسطینی اور غیر ملکی سماجی کارکنان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے کے باوجود بھی نبی صالح کے جنوبی گیٹ تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ اس موقع پر ایک فلسطینی نوجوان کو حراست میں لے لیا گیا تھا جبکہ ایک خاتون سمیت بہت سے مظاہرین کالی مرچ کے سپرے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے۔عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے گاڑیوں اور صحافیوں کو گائوں میں داخل ہونے سے روک دیا اور تین صحافیوں کا سامان اور گاڑیاں قبضے میں لینے کے بعد انہیں وہاں سے واپس بھیج دیا۔
دریں اثناء جو صحافی کسی طرح گائوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے ان پر اسرائیلی فوجیوں نے وحشیانہ طریقے سے حملہ کردیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
اس موقع پر نبی صالح کی عوامی مزاحمتی تحریک کے سربراہ باسم التمیمی نے کہا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد فلسطینی عوام کی مزاحمت کے ساتھ وابستگی کو ظاہر کرنا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے مین مزاحمتی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے۔
