مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق طوالبہ خاندان سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مراد کو جیل میں بند کیے ہوئے سترہ دن ہوچکے ہیں۔ اس دوران فلسطینی اتھارٹی کے تفتیش کاروں نے اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم اور بلا جواز گرفتاری کے خلاف مراد نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ جب یہ خبر اس کے گھر میں پہنچی تو اس کی والدہ بھی جیل باہر جاکر بیٹھ گئی اور اس نے بھی اسیر بیٹے سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
خیال رہے کہ مراد طوالبہ پچھلے 18 دن سے جنید جیل میں قید ہے اور اسے مسلسل اذیتوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسیر نوجوان نے بھوک ہڑتال کے دوران کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا تھا جس کے باعث اس کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ بعد ازاں اسے جیل کی ایک اسپتال میں بھی لے جایا گیا، تاہم اس نے علاج کرانے اور دوائی لینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
