فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےڈاکٹرا حمد بحر کا کہنا تھا کہ فرانس کی جانب سے اعلان کردہ نام نہاد عالمی امن کانفرنس کو اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی درمیان مذاکرات کی بحالی کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔ ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی ریاست کے درمیان کسی قسم کا مذاکراتی ڈرامہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ موجودہ حالات میں جب کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہے کسی قسم کی بات چیت صہیونی ریاست کی خدمت تصور کی جائے گی۔
ڈاکٹر احمد بحر کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کےحل، فلسطینیوں کے حق واپسی کو یقینی بنانے، مقدس مقامات کے دفاع اور ان کی آزادی اور وطن عزیز کی قابض دشمن کے تسلط سے آزادی کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ مزحمت ہے۔ مزاحمت نے اپنے مثبت اثرات ثابت کئے ہیں کیونکہ فلسطینی قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیلی دشمن مذاکرات نہیں طاقت کی زبان جانتا ہے۔
فلسطینی سیاست دان کا کہنا تھ کہ فلسطینی اتھارٹی 20 سال سے اسرائیل کے ساتھ نام نہاد امن بات چیت کررہی ہے مگر آج تک اسرائیل نے فلسطینی قوم کا ایک حق بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ مذاکرات کی آڑ میں قبلہ اول کو خطرے میں ڈالنے اور مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشیں کی تو جاتی رہی ہیں مگر فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کی کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ فرانس نے رواں سال جون میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کےلیے بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کانفرنس میں اب تک 20 ممالک کے مندوبین کو شرکت کی دعوت ارسال کی گئی ہے۔ پہلے کانفرنس کے لیے 30 مئی کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم اب تین جون کو یہ کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ حماس اور کئی دوسری فلسطینی تنظیمیں بھی فرانس کی میزبانی میں ہونے والی نام نہاد مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کو مسترد کرچکی ہیں۔
