مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد نے گذشتہ روز ذرائع ابلاغ میں آنے والی ایک خبر میں اپنا رد عمل ظاہرکیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں جاری بغاوت کی تحریک میں اسلامی جہاد کی جانب سے کوئی کردار ادا نہ کرنے پرایران اور اسلامی جہاد میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔
اس خبر کے رد عمل میں اسلامی جہاد نے اپنا موقف واضح کیا ہے کہ جماعت کسی عرب ملک کے اندرونی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی کیونکہ ہمارا مقصد صرف فلسطین کی آزادی کے لیے جدو جہد کرنا ہے۔ اس لیے ہم مسئلہ فلسطین کو علاقائی تنازعات میں نہیں الجھانا چاہتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے اسلامی جہاد کو درپیش مالیات بحران سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی ہیں جن کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسلامی جہاد کو کسی قسم کے مالیاتی بحران کا سامنا نہیں ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران عرب ممالک کا دشمن نہیں اورنہ ہی تہران سے کسی ملک کوخطرہ ہے۔ تاہم اگر عرب ممالک کا کوئی دشمن ہے تو وہ اسرائیل ہے جس نے عرب سرزمین پرغاصبانہ تسلط جما رکھا ہے۔
اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اس کا مشن فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد کرنا ہے اور جماعت قوم کی آزادی کی خاطر ہرطرح کی قربانیاں دیتی رہے گی۔ اسلامی جہاد پورے صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ وطن عزیز کی آزادی کے لیے قربانیاں دینے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
