نابلس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے مکینوں کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ تصادم اس وقت ہوا جب نصف شب عباس ملیشیا کے دسیوں مسلح اہلکار غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوگئے اور شہریوں کو گھروں کے اندر محصور رہنے کا حکم دیا۔ عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر نشستیں سنھبال لیں اور دوسرے مکانوں پر فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں عباس ملیشیا کے متعدد اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ میں عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ بلاطہ پناہ گزین کیمپ میں یہ اب تک کا سب سے خوفناک تصادم ہے۔ جس میں دونوں طرف سے بندوقوں کا استعمال کیا گیا ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں اور عباس ملیشیا کے درمیان تصادم اس وقت شروع ہوا جب عباس ملیشیا کے مسلح اہلکاروں نے گھروں کی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں کے اندر داخل ہونے اور خواتین اور بچوں کو زدو کوب کرنے کی کوشش کی۔ اس پرشہری مشتعل ہوگئے۔
نابلس کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ایک پولیس اہلکار کی آنکھ میں گولی لگنے سے آنکھ ضائع ہوگئی ہے جب کہ ایک شہری کے سرمیں گولیاں لگی ہیں۔ ان دونوں زخمیوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
