رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم حزب التحریر نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں عباس ملیشیا نے ایک سرکردہ عالم دین الشیخ یونس رباع کو الخلیل شہر میں الظاہریہ کے مقام پر نماز جمعہ کے بعد حراست میں لیا۔ دوران حراست عباس ملیشیا کے غنڈوں نے انہیں داڑھی سے پکڑ کرگھیسٹا اور ان کی داڑھی بھی نوچتے رہے۔
حزب التحریرکا کہنا ہے کہ الشیخ یونس نے جمعہ کی تقریر میں صحابی رسول تمیم الداری کے نام سے وقف املاک کو روسی قونصلیٹ اور فلسطینی وزراء کو دیے جانے پر کڑی تنقید کی تھی۔ یہ تنقید فلسطینی اتھارٹی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں ہوئی، جس کے بعد عباس ملیشیا نے سرکردہ عالم دین کو حراست میں لینے کے بعد ان کے ساتھ نہایت شرمناک سلوک کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا نے گرفتاری کے وقت فلسطینی مذہبی رہنما کو داڑھی سے پکڑ کرگھیسٹا جس کے نتیجے میں ان کی داڑھی کے بال ان کے پاؤں میں جا گرے۔ حراستی مرکز میں لے جانے کے بعد انہیں بہ زور برہنہ کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
