• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

صہیونی نظام و نصاب تعلیم مسلط کرنے کےخلاف فلسطینی شخصیات سرگرم

جمعرات 14-05-2015
in فلسطین
0
plf zionist-curriculum
0
SHARES
2
VIEWS

 

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی نظام تعلیم کے خلاف منظم اور مکروہ سازشیں شروع کی ہیں، دوسری جانب بیت المقدس کی سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات نے صہیونی سازشوں کو ناکام بنانے کےعزم کا اظہارکیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس میں عبرانی نظام تعلیم نافذ کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔ بیت المقدس کی سرکردہ شخصیات نے صہیونی حکومت کی سازشوں کو ناکام بنانے کی مساعی شروع کی ہیں۔ اس سلسلے میں بیت المقدس میں ’’نظام تعلیم ماضی، حال ۔۔۔ اور نظام کو یہودیانے کی سازش‘‘ کےعنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ کانفرنس میں مسجد اقصیٰ کے امام وخطیب ڈاکٹر عکرمہ صبری، بیت المقدس سے منتخب رکن اسمبلی عبداللہ صیام، ڈاکٹرجمال عمرو اور سیاسی و سماجی کارکن راسم عبیدات سمیت درجنوں اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی نظام تعلیم مسلط کرنے کی سازشوں کے پس پردہ سازشوں کو کامیاب بنانے میں بیت المقدس کے بعض فلسطینی بھی ملوث ہیں جو اپنے بچوں کو فلسطینی نظام تعلیم کے بجائے اسرائیلی اسکولوں میں داخل کراتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بعض فلسطینی بچوں کے والدین صہیونی نظام تعلیم کو قبول نہ کریں تو اسرائیل اپنی مرضی کا نظام اور نصاب تعلیم مسلط نہیں کرسکتا ہے۔ الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں ’’البجروت‘‘ نظام تعلیم مثالی نظام اور نصاب ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں بچوں سے پہلے ان کےوالدین کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی۔

الشیخ عکرمہ نے بتایا کہ سنہ 2011 ء کے تعلیمی سال کے دوران اسرائیل نے بیت المقدس میں حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کے لیے تحریف شدہ نصاب تعلیم نافذ کیا۔ ابتدائی طورپر یہ نصاب تعلیم بیت المقدس کے 40 پرائیویٹ اسکولوں میں نافذ کیا تھا تاہم بعد ازاں اسے بیت المقدس کے طول وعرض میں پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ ہمارے اس اجلاس کا مقصد بیت المقدس میں اسرائیل کے مسلط کردہ نظام ونصاب تعلیم کے خلاف متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ ہمیں گھر گھرجا کر فلسطینی شہریوں کو یہ بتایا ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو فلسیطن کی غلط تاریخ کے بجائے حقائق سے روشناس کرائیں اور اسرائیل کے تحریف شدہ نصاب تعلیم کا بائیکاٹ کریں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.