فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی شہری باب الاسباط میں ابھی نماز عشاء ادا کررہے تھے کہ اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے انہیں گھیرے میں لے لیا اوران پر آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور دھاتی گولیوں سے حملے شروع کردیے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج نے نہتے نمازیوں پر دھاتی گولیوں، آنسوگیس کی شیلنگ، صوتی بموں اور دیگر آلات سے حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کے باوجود شہری قبلہ اوّل کے باہر دھرنا جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ہلال احمر فلسطین کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی عملے نے 13 زخمیوں کو موقع پر طبی امداد فراہم کی جب کہ تین کو المقاصد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان میں بچی بھی شامل ہے جس کے سر اور ہاتھ میں میں زخم آئے ہیں۔ دو نمازی دھاتی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے پرتشدد حربوں میں ایک خاتون صحافیہ فاطمہ البکری بھی زخمی ہوئی ہیں۔
