فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں پیٹر ماوریر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی انتہائی پریشان کن زندگی بسر کررہے ہیں۔ غزہ کی پٹی کے عوام کو بنیادی انسانی سہولیات کا فقدان ہے اور وہ انسانی بحرانوں کا سامنا کررہے ہیں جب کہ غرب اردن کے فلسطینی صہیونی آباد کاری کی وجہ سے پریشان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی کا دورہ ان کے لیے حیران کن نتائج کا حامل رہا ہے۔ نہیں ان دونوں فلسطینی علاقوں کےحالات دیکھ کر سخت صدمہ پہنچا ہے۔
قبل ازیں بیت المقدس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں پیٹر ماویر کا کہنا تھا کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں بجلی، پانی، صحت اور بنیادی ضروریات کے بحران کیسے ختم کیے جاسکتے ہیں مگر ان بحرانوں کے حل میں کوئی فریقی سنجیدہ نہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی صہیونی آباد کاری کے منصوبوں نے غرب اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی راہ آسان اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ مشکل کی ہے۔
خیال رہے کہ ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے چیئرمین نے حال ہی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور غزہ کی پٹی میں حماس کے علاقائی سربراہ یحییٰ السنوار سے ملاقات کی تھی۔
اپنے دورے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے ماویر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں غربت کا ایسا عالم ہے کہ اس کی دنیا کے کسی دوسرے خطے سے مثال نہیں دی جاسکتی۔
