فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین اور اسلام کی عظمت رفتہ کی حسین یاد گاروں میں ترک فرمانروا سلطان سلیمان القانونی المتوفی 1566ء کےدور کی قائم کردہ سبیلیں ہیں۔
پانی کی یہ سبیلیں سلیمان القانونی کے دور میں ان کے حکم سے تعمیر کی گئیں۔
غرب اردن سے بیت المقدس جاتے ہوئے القدس کے جنوب مغربی دروازے ’باب الخلیل‘ کے قریب واقع سبیل سلطان سلیمان آج بھی موجود ہے۔ یہ سبیل کا پانی کا چشمہ مملوک دور ے علاء الدین جقمق کے تعمیر کردہ برکہ کے جنوب میں واقع ہے۔ واضح رہے کہ یہ برکہ مرکز بھی ایک تاریخی مقام ہے۔
سلطان سلیمان القانونی کے دور میں بیت المقدس کے باشندوں کے لیے میٹھے پانی کا انتظام کرنے کے لیے قبلہ اوّل اور اس کے اطراف میں سات سبیلیں لگائی گئیں۔
فلسطینی مورخ روبین ابو شمسیہ کے مطابق بیت لحم اور بیت المقدس کے درمیان واقع سلطان سلیمان سبیل اس سڑک پر قائم کی گئی جو رومن دور میں قائم کردہ شہروں کے درمیان رابطے کے لیے بنائی گئی تھی۔
مسجد اقصیٰ کے قریب سلطان صلاح الدین ایوبی اور ممالیک کے ادوار میں بھی پانی کی سبیلیں قائم کی گئیں مگر سلیمان القانونی کے دور میں قائم کردہ سبیلیں اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔
سبیل سے پانی کی نالیاں قریبی علاقوں تک پھیلائی گئیں اور پانی کو ٹھنڈا رکھنے کا بھی انتظام کیا گیا۔
فلسطینی مورخ ابو شمسیہ نے کہا کہ ترک فرمانروا سلطام سلیمان القانونی کے دور میں مجموعی طور پر بیت المقدس میں پانی کی نو سبیلیں قائم کی گئیں۔ ان سبیلوں میں جنوبی بیت لحم سے چشموں کا صاف پانی نالیوں کی مدد سے منتقل کیا جاتا۔ برک سلطان سلیمان اور برک ارطاس پانی کی فراہمی کے اہم مقامات تھے۔
ترک فرمانروا کے دور میں مجموعی طور پرقائم کی گئی نو سبیلوں میں سے تین صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں جب کہ چھ سبیلیں اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک سبیل مسجد اقصیٰ کے اندر باب شاہ فیصل کے جنوب میں قائم ہے جب کہ چار سبیلیں مسجد اقصیٰ کی شمالی اور مغربی سمتوں میں موجود ہیں۔ الواد سبیل باب السلسلہ واقع ہے۔ اس کے علاوہ باب المجلس، باب الاسباط اور حمام العین میں ایک سبیل موجود ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ابو شمسیہ نے بتایا کہ بیت المقدس کی تاریخی دیواروں سے باہر واقع سبیل ’سبیل سلطان سلیمان‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ان تمام سبیلوں کی تعمیر میں نقش و نگاراور بیل بوٹے بھی بنائے گئے جن سے ان کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے۔ تاریخی مآخذ سے پتا چلتا ہے کہ سبیل سلطان سلیمان القانونی 1538ء میں بنائی گئی تھی۔
ابو شمسیہ کا کہنا ہے کہÂ سبیل سلطان سلیمان کے نشیب میں بازنطینی دور کا حوض واقع ہے۔ یہاں سے رسنے والے پانی کو نالیوں کی مدد سے سلوان اور وادی الربابہ تک لے جایا گیا ہے۔
فلسطین پر برطانی دور استبداد میں یہ سبیل بھی نظر انداز ہوئی تاہم صیہونی ریاست نے القدس پرقبضے کے بعد اسے صیہونی شکل میں تبدیل کرتے ہوئے بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ کی کاوش قرار دے کراس کی مرمت کی ہے۔
پانی کی سبیل نہ صرف بیت المقدس کے مقامی باشندوں کے لیے میٹھے پانی کا ذریعہ ہے بلکہ شہر کے اندر اور باہر، مسافروں اور دیگر افراد کے لیے بھی پانی کے حصول کا مرکز ہے۔
سبیل کےعقب میں مملوک بادشاہ سلطان علاء الدین جقمق کا برکہ ہے۔ ماضی میں یہ اسلامی اور عرب ثقافت کا مرکز تھا مگر اب اسے صہیونی ریاست نے ایک تھیٹر میں تبدیل کر رکھا ہے۔
برکہ کے ایک حصے پر ایک چھوٹا پارک قائم کیا گیا ہے جسے ’ٹیڈی قولق‘ پارک کا نام دیا گیا ہے۔ ٹیڈی قولق بیت المقدس کا سابقہ میئر تھا۔ وہ بیت المقدسÂ کو صیہونیانے کے منصوبوں میں کافی شہرت رکھتا ہے۔
