فلسطینی انتظامیہ کے محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے رام اللہ میں غیر جانب دارممالک کی تنظیم کا ہنگامی اجلاس اسرائیل کی جانب سے مداخلت کے بعد منسوخ کردیا ہے۔ رام اللہ وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غیر جانب دار ممالک کی تنظیم کے چار ممبر ممالک کے فلسطین میں داخلے پر پابندی عائد کی ہے جس کے بعد انہوں نے تنطیم کا ہنگامی اجلاس منسوخ کردیا ہے۔
فلسطینی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے رام اللہ میں غیر جانب دار ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیشن اور کیوبا کے وزراء خارجہ کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے، کیونکہ ان ممالک کے اسرائیل کےساتھ براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
اُدھر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی‘‘اے ایف پی’’ نے ایک فلسطینی عہدیدار کا نام صیغہ راز میں رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ ‘‘حال ہی میں اسرائیلی وزایراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر سے فلسطینی انتظامیہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ رام اللہ میں غیر جانب دار ممالک کی تنظیم کے اجلاس میں ان چار ملکوں کے وزراء خارجہ کو داخلے سے روک دیں گے جن کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ الجیرین وزارت خارجہ کی جانب سے فلسطینی وزارت خارجہ کو پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی کہ وہ اس بار رام اللہ میں ہونے والے تنظیم کے اجلاس میں اپنا سفارتی مشن روانہ نہیں کرے گا، کیونکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
