• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

رام اللہ اتھارٹی کے اسرائیل سے مذاکرات قیدیوں کی رہائی تک محدود!

ہفتہ 29-06-2013
in فلسطین
0
plf 29 ramm
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے مذاکرات کاروں میں خفیہ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں صرف ان فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی بات ہو رہی ہے جو اپنی اسیری کے کم سے کم بیس سال صہیونی جیلوں میں کاٹ چکے ہیں۔

 

دوسری جانب ایک فلسطینی تجزیہ نگار نے ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے مذاکرات کا ایجنڈا محدود کردیا ہے۔ اب صہیونی ریاست سے ہونے والے خفیہ مذاکرات میں سنہ 1967ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کی فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری روکنے کے مطالبات شامل نہیں ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق رام اللہ میں قیدیوں کے امورکو فالو کرنے کے لیے قائم کردہ سپریم کونسل کے چیئرمین امین شومان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ "اسرائیل اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے مابین خفیہ بات چیت کا دور جاری ہے۔ بات چیت میں سنہ 1994ء میں طے پائے ” اوسلو” معاہدے سے قبل گرفتارشدہ فلسطینیوں کی رہائی پرغور کیا جا رہا ہے”۔

شومان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے حتمی فیصلے کا اختیار اسرائیلی صدر کے پاس ہے۔ صدر قیدی کی سزاء مکمل معاف بھی کرسکتا ہے اور اس میں کمی کا بھی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم صہیونی کنیسٹ میں انتہا پسند ارکان پارلیمنٹ پردباؤ ڈال رہے ہیں کہ قیدیوںکی رہائی کے لیے صدر کو دیا گیا اختیار واپس لیا جائے اور یہ اختیار پارلیمنٹ کو دیا جائے ۔

ادھر فلسطینی تجزیہ نگار اسرائیل۔ فلسطین مذاکرات پر نظر رکھنے والے دانشور ھانی المصری نے کہا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی نے اس بار اسرائیل سے مذاکرات میں دو اہم مطالبات کو سرے سے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں کیا۔ یہ دو اہم مطالبے ماضی میں ہونے والے مذاکرات میں ہرسطح پر شامل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طورپر اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سنہ 1967ء کے علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں غیر قانونی یہودی آباد کاری روکنا اور طویل عرصے سے قید فلسطینیوں کی رہائی جیسے مطالبات شامل رہے ہیں۔ لیکن اب فلسطینی مذاکرات کاروں نے اول الذکر دونوں مطالبات ایجنڈے سے خارج کردیے ہیں۔

بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.