طوباس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں اپنے حقوق کے لیے بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے والے ایک فلسطینی شہری کی والدہ بھوک ہڑتال کے تیسرے روز اچانک بے ہوش ہوگئیں اورانہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیر عبدالسلام بنی عودہ 17 اپریل سے 1500 اسیران کے ہمراہ بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی والدہ نے غرب اردن کے شمالی شہر طوباس میں ایک دھرنے کے دوران بیٹے کے ساتھ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔’رپورٹ کے مطابق اسیر فلسطینی کی والدہ ام عصام بنی عودہ نے تین روز تک بیٹے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال کی۔ گذشتہ روز وہ طوباس میں ایک احتجاجی دھرنے میں موجود تھی کہ اچانک حالت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو کرگر پڑیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ام عصام بنی عودہ کو حالت بگڑںے کے بعد طوباس میں ترکی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اب اس کی حالت بہتر بتائی جاتی ہے۔
خیال رہے کہ بنی عودہ کا تعلق طوباس کے نواحی علاقے طمون سے ہے اور وہ اسرائیلی جیل میں 20 سال قید کی سزا کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنےحقوق کےلیے اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
