مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) قبلہ اوّل کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے خبردار کیا ہےکہ چھ دسمبر دو ہزار سترہ کو امریکی صدر ڈونلڈ کے اعلان القدسÂ پرعمل درآمد کیا گیا تو فلسطین میں نہ تھمنے والا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق موجودہ تحریک گذشتہ برس کی دفاع الاقصیٰ تحریک سے زیادہ شدت اختیار کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القدس کا دفاع مکہ اورمدینہ کی طرح کیا جائے کیونکہ بیت المقدس حرمین شریفین کا حصہ ہے۔شمالی فلسطین میں البعنہ کے مقام پر نصرت القدس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ اگر امریکا کا اعلان القدس نافذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں فلسطین میں ایک غیرمعمولی تحریک اٹھ کھڑی ہوگی۔ یہ نئی تحریک گذشتہ برس باب الاسباط میں قبلہ اول کے باہر الیکٹرانک گیٹس لگانے کے خلاف اٹھنے والی تحریک سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ القدس مکہ اور مدینہ کا حصہ ہے۔ القدس سے رو گردانی حرمین شریفین سے روگردانی کے مترادف ہے۔ القدس کولاحق خطرات مکہ اور مدینہ کو درپیش خطرات کے مترادف ہیں۔ ہمیں القدس کا دفاع مکہ اور مدینہ کی طرح کرنا ہوگا۔
الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے منحوس اقدام نے مسلمان اور عیسائی برادری کو باہم متحد کردیا ہے۔ عالم اسلام اور عیسائی دنیا کے سامنے القدس کے تاریخی اسٹیٹس کا دفاع ایک بڑا چیلنج ہے اور ہمÂ سب کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
