وادی حلوہ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں صہیونی بلدیہ کے اہلکاروں نے پانچ فلسطینی خاندانوں کومکانات خالی کرنے کے بعد انہیں ازخود گرانے کے نوٹسز جاری کیے۔ جاری کردہ نوٹسز میں فلسطینیوں کے ان مکانات کی تعمیرکوغیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات سلوان کے مطابق صہیونی حکام کی جانب سے جن چار خاندانوں کو مکانات مسماری کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔ ان میں صیام اور غیث خاندان بھی شامل ہیں۔ ان دونوں خاندانوں نے سنہ 1990 ء کے عشرے میں یہاں پرمکانات تعمیر کرائے تھے، جنہیں اب صہیونی حکام غیرقانونی قرار دے کر مسمار کرنے کے احکامات دے رہا ہے۔ ان دونوں مکانوں میں مجموعی طور پر کم سے کم چودہ افراد رہائش پذیر ہیں۔
صیام کا مکان 50 مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جبکہ غیث کے مکان کی وسعت 65 مربع میٹر ہے۔ دونوں مکانوں کے ساتھ دکانیں بھی شامل نہیں۔ انہیں بھی گرانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
صہیونی حکام نے وادی حلوہ میں ایک زیرتعمیرمکان کے مالک عویضہ خاندان کو بھی تعمیراتی کام فوری طورپر روکنے اور مکان مسمار کرنے کا نوٹس دیا۔ یہ مکان 75 مربع میٹر علاقے میں ہے۔ صہیونی انتظامیہ نے اس مکان پرچھاپہ مار کرخواتین اور بچوں کو زدو کوب بھی کیا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر مکان ایک ہفتے میں نہ گرایا گیا فوج کی مدد سے اسے مسمار کردیا دیا جائے گا۔
