فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابو فارہ کے وکیل کی جانب سے اسرائیل کی فوجی عدالت میں ایک درخواست دی گئی تھی جس میں احمد ابو فارہ کی انتظامی حراست ختم کرنے اور اس کی رہائی کی اپیل کی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عدالت کی طرف سے ابو فارہ کی رہائی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے صہیونی عدالت Â کی طرف سے کہا گیا کہ ابو فارہ کی گرفتاری اور اس کو دی گئی سزا غلط نہیں تھی۔ اس لیے ابو فارہ کی رہائی کی کوئی اپیل قبول نہیں کی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ احمد ابو فارہ کو اسرائلی فوج نے 02 اگست 2016ء کو الخلیل شہر کے صوریف قصبے سے حراست میں لیا تھا اور اسے انتظامی حراست میں ڈال دیا گیا تھا۔ ابو فارہ کو پہلے بھی دو سال تک جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔
