مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہودی ڈپٹی اسپیکر جو خود بھی ایک انتہا پسند یہودی لیڈر ہیں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ آج مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ گروپ انہی کے نام”فیگلن” سے پہچانا جاتا ہے۔ اپنی آج کی جارحانہ مہم کو انہوں نے”کوہ ہیکل پے چڑھنے کا مہینہ” قراردیا ہے اور اسی طرح کی نام نہاد مہمات کی آڑ میں مسجد اقصیٰ کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اقصیٰ فاؤنڈیشن نے فلسطین بھرکے مسلمانوں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں رہنے والے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسجد اقصیٰ میں گذاریں تاکہ انتہا پسند یہودیوں کی کسی بھی شرانگیزی سے قبلہ اول کو محفوظ رکھا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قبلہ اول کو انتہا پسند صہیونیوں کی سازشوں سے بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلمان قبلہ اول سے جڑے رہیں اور زیادہ وقت مسجد ہی میں گذاریں۔
بیان میں بتایا گیا کہ "فیگلن” کے نام سے مشہور یہ گروپ ماضی میں بھی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔ یہ لوگ مسجد اقصیٰ کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی سازش کے تحت یہاں آتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اپنے اس دعوے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پوری دنیا کے یہودیوں سے مدد کی اپیلیں کی تھیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
