مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے شہرالجلیل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ ہم جب اور جہاں بھی خطرہ محسوس کریں گے دشمن کی کارروائی سے قبل آگے بڑھ کر اس خطرے کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اندرون ملک قیام امن ضروری ہے۔ یہ صرف اسرائیل کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے تمام پڑوسیوں کی بھی اہم ضرورت ہے۔
فلسطینی اسیران کی رہائی کے بارے میں نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ "ہم میں اور فلسطینیوں میں فرق دکھائی دینا چاہیے۔ جب ہم بعض اوقات ناپسندیدہ فیصلے قبول کرلیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہمارے شہریوں کے قاتلوں کی رہائی پر جشن منا کرہمارے دکھوں کو اور بڑھا دیا جاتا ہے۔ ہم اس پربھی صبر کرتے ہیں کیونکہ قاتل کی رہائی پرکوئی بھی جشن نہیں مناتا۔
ادھر جنوبی اسرائیل کے شہرالجلیل کے ترقیاتی پروگراموں کے نگراں وزیر سلیفان شالوم نے کہا ہے کہ وادی اردن پر مستقل قبضے اور اس کی تعمیرو ترقی کے بارے میں اسرائیلی سیاسی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وادی اردن کو عالمی جہادی گروپوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر وادی اردن کا قبضہ چھوڑ دیا گیا جہادی گروپوں کے عناصر پیدل چلتے ہوئے اسرائیل کے قلب میں پہنچ جائیں گے۔
